نئی دہلی،23/اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کو دعوی کیا کہ یہ اعداد و شمار ہندوستان کی شبیہہ بہتر بنانے والے ہرگز نہیں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ این سی آر بی نے ایک سال سے بھی زیادہ وقت کی تاخیر سے منگل کو 2017 کے جرائم سے متعلق اعداد و شمار جاری کئے تھے۔ان اعداد و شمار کے مطابق ملک میں جرائم، خاص کر خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے کافی تاخیر کے بعد جرائم کے سلسلے میں جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ آج میڈیا میں بڑی بڑی سرخیوں میں ہیں اور وہ ہندوستان کی شبیہہ کو بہتر بنانے والے ہر گز نہیں ہیں جو بڑے دکھ اور تشویش کی بات ہے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ ملک میں ہر قسم کے جرائم میں بھی خاص طور پر خواتین سیکورٹی کے معاملے میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کو پوری ایمانداری کے ساتھ بہت کچھ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔یوپی کا سب سے زیادہ برا حال ہے اور یہ ایسے وقت میں ہے جبکہ مرکز اور ریاست میں بھی ایک ہی پارٹی بی جے پی کی حکومت ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق مجرمانہ معاملے درج کئے جانے کے معاملے میں اتر پردیش پہلے نمبر پر ہے۔اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور دہلی کا نمبر آتا ہے۔مایاوتی نے ٹویٹ کر کہاکہ این سی آر بی نے بہت تاخیر کے بعد جرائم کے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ میڈیا میں سرخیوں میں ہیں اور وہ ہندوستان کی شبہہ کو بہتر بنانے والے ہرگز نہیں ہیں۔یہ بڑے افسوس اور تشویش کی بات ہے۔اتر پردیش میں جرائم کے اعداد و شمار کے حوالے سے مایاوتی نے کہاکہ اتر پردیش کا سب سے زیادہ برا حال ہے۔قابل ذکر ہے کہ ملک میں 2017 میں کل 30,62,579مجرمانہ معاملے درج کئے گئے تھے۔2015 میں ان کی تعداد 29,49,400اور 2016 میں 29,75,711تھی۔اتر پردیش میں 2017 میں 3.10 لاکھ مجرمانہ معاملے درج کئے گئے۔